[Manqabat] 15 Shaban Manqabat 2022 | Jab Aane Wala Ayega | Shadman Raza | Urdu

Views: 303
Rating: ( Not yet rated )
Embed this video
Copy the code below and embed on your website, facebook, Friendster, eBay, Blogger, MySpace, etc.
 

Tags

15   Shaban   Manqabat   2022   Shadman   Raza   Imam   Mehdi   Mahdi   Sabeel   Mawaddat   Sabeel   shab   barat  

15 Shaban Manqabat 2022 Jab Aane Wala Ayega Shadman Raza Imam Mehdi Manqabat 2022 #15ShabanManqabat #ShadmanRaza #SabeeleMawaddat #ImamMahdi #15Shaban ----------- Title: JAB AANE WALA AYEGA جب آنے والا آئے گا Reciter: Syed Shadman Raza Naqvi Poet: Dr Payam Azmi (India) Composition: Shadman Raza Chorus: Shabih Jafry, Zeeshan Jafry, Ahsan Jafry & Ali Jafry Audio: Studio 92 (Shabih Raza) Video: Turab Zaidi Media Team: Sajjad Purikpa Special Thanks: Imran Raza (Al Asr) & Mirza Hasan Mujtaba Produced by: Sabeel e Mawaddat ---------------------------------------------------------------------------------- Produced By: Sabeel e Mawaddat © 2022 Sabeel e Mawaddat. All rights reserved. ---------------------------------------------------------------------------------- ➽ Subscribe ➽ https://bit.ly/3bwX9tV🔔 Stay updated! Keep visiting for more updates: ✔ Youtube: https://www.youtube.com/SabeeleMawaddat ✔ Facebook: https://www.facebook.com/SabeeleMawaddat ✔ Instagram: https://www.instagram.com/SabeeleMawaddat ------------------------------------------------------------------------------ کلام :جناب پیام اعظمی صاحب سب ٹھاٹ پڑا رہ جائے گا جب آنے والا آئے گا اک روز یه منظر بدلے گا اک دن یه چمن لهرائے گا گلشن میں چلے گی ایسی ہَوا یہ دورِ خزاں مٹ جائے گا یہ دھرتی سونا اگلے گی یہ چرخ گہر برسائے گا اک دن یہ نظام ظلم و ستم خود ظالم کو رُلوائے گا خنجر کا کلیجہ کانپے گا تلوار کا سر چکرائے گا سب ٹھاٹ پڑا رہ جائے گا جب آنے والا آئے گا سب تیر و کماں کیا نوک سناں کیا گرز گراں کیا تیغ دو دم کیا ٹینک اور کیسے میزائیل کیا راکٹ کیسے آیٹم بم سامانِ ہَوس اسبابِ ستم ریگن کی زباں رشدی کا قلم انساں کا لہو پینے والے انسان کی صُورت میں یہ صنم کھل جائے گا ایک اک کا بھرم جب پَردہ وہ سر کائے گا سب ٹھاٹ پڑا رہ جائے گا جب آنے والا آئے گا گونجی گی صدا ئے جاء الحق جب سورج چاند ستاروں سے کچھ کر نہ سکیں گیں اہل ستم تب مصیوعی سیاروں سے ٹکرایں گے خود ہی آپس میں جب طیارے طیاروں سے دم بھرت میں نکل جائیگی ہوا طاقت کے سبھی غباروں سے جب زورِ الہی کا وارث اپنی طاقت دکھلائے گا سب ٹھاٹ پڑا رہ جائے گا جب آنے والا آئے گا ٹوٹے گا جب طلسمِ و لعل و گہر پھوٹے گا مقدر ڈالر کا نیزوں کی چمک بجھ جائے گی اُڑ جائے گا پانی خنجر کا اے اہل جفا کیوں کرتے ہو چرچا یوں فوج و لشکر کا تم مرحب و عنتر کے بیٹے وہ لال ہے شیر داور کا زہرا کی دعا ہے سینہ سپر کون اس سے بھلا ٹکرائے گا سب ٹھاٹ پڑا رہ جائے گا جب آنے والا آئے گا مانا کہ ابھی ہیں دہن صحرا صحرا گلشن گلشن مانا کہ ہیں صدیوں کے پیاسے یہ لالہ و گل یہ سرو سمن پتی پتی ہے خشک زباں ڈالی ڈالی ہے تشنہ دہن اللہ کی رحمت سے لیکن مایوس نہ ہو اربابِ چمن وہ بادل اٹھنے والا ہےجو سب کی پیاس بجھائے گا سب ٹھاٹ پڑا رہ جائے گا جب آنے والا آئے گا اے وادی نجد کے راہزنوں کیوں ہم کو آنکھ دکھاتے ہو جو بھیک میں مانگ کے لائے ہو اس طاقت پر اتراتے ہو مہماں کا خون بہاتے ہو ایماں کا نقش مٹاتے ہو کھاتے ہو پیمبرِؐ کا صدقہ اور امّت پر غرّاتے ہو اک روز بتوں کی طرح تمہیں کعبہ سے نکالا جائے گا سب ٹھاٹ پڑا رہ جائے گا جب آنے والا آئے گا ظلمات کی کالی راتوں کا رکھو گے نام سحر کب تک یہ نشر و اشاعت کے مرکز چھاپیں گے جھوٹی خبر کب تک ڈالیں گے حقائق پر پردہ الفاظ کے بازی گر کب تک یوں مسند علم پہ بیٹیھیں گے انسان نما پتھر کب تک کب تک آخر باطل کا گلا دنیا میں شور مچائے گا سب ٹھاٹ پڑا رہ جائے گا جب آنے والا آئے گا اک روز یہ تم سے پوچھیں گے بیدار مقدّر کس کا ہے کس کی ہے ہوا کس کا ہے خلا نظم مہ و اختر کس کا ہے کس کا ہے تسلّط صحرا پر گلشن میں گُلِ تر کس کا ہے پانی پہ مصلّی بچھنے دو تب کہنا سمندر کس کا ہے جب اپنا سفینہ ابھرے گا طوفان کا سر چ؛رائے گا سب ٹھاٹ پڑا رہ جائے گا جب آنے والا آئے گا یوروپ کی زمیں تھرّاتی ہے رشدی کی حفاظت کیا ہوگی فتوے سے تو دنیا ہلنے لگی تلوار کی طاقت کیا ہوگی نائب کی جب اتنی ہیبت ہے آقا کی جلالت کیا ہوگی بندے کی زباں میں ہے یہ اثر مولا کی حکومت کیا ہوگی جو زور خدا کا وارث ہے کون اس سے آنکھ ملائے گا سب ٹھاٹ پڑا رہ جائے گا جب آنے والا آئے گا جاگے گی غریبوں کی قسمت دن پلٹے گا رنجوروں کا کب تک یوں ہی استحصال کریں گے ظلم و ستم معذوروں کا کب تک یہ سیاست کی جوکیں چوسیں گی لہو مزدوروں کا ٹپکا ہے زمیں پر جتنا لہو مظلوموں کا مزدوروں کا اُبھرے گا شفق بن کر وہ لہو اور انگارے برسائے گا سب ٹھاٹ پڑا رہ جائے گا جب آنے والا آئے گا ہے عزم خلیلی سینوں میں شعلوں میں پھول کھلا دینگے ہاتھوں میں نہاں ہے زور علیؑ خیبر کا سماں دکھلا دینگے عبّاس دلاور کے وارث ہر اک کی پیاس بجھا دینگے یہ نسل و مُلک و رنگ و وطن کی سب دیواریں گرا دینگے اس وقت فضائے عالم میں بس ایک علم لہرائے گا سب ٹھاٹ پڑا رہ جائے گا جب آنے والا آئے گا

Added by sjaa on 19-03-2022
Runtime: 11m 33s
Send sjaa a Message!

(985) | (5) | (4) Comments: 0